Subscribe via email

Enter your email addressاپنا ای میل لکھیں اور بذریعہ ای میل نیا مضمون حاصل کریں۔:

Delivered by FeedBurner

Tuesday, December 31, 2019

فہرست

فہرست
اصول کی بات     عدل کا مفہوم     غربت کا بہانہ      ظالم عورت کون        بیوی کے بغیر موت   نکاح میں تاخیر کرنے والا     علما کا دینی جذبہ اور شادیاں     دینی ترقی کا راز   امریکی ریاست کا قانون   زیادہ بچے دینے والی عورت   سنت سے اعراض         بہتر شخص کون      ایک فقہی مسئلہ   نکاح میں کثرت        کامل انسان کون        قابل تعریف کام  موسیٰ علیہ السلام کا نکاح   
عورت اور ضبط       امام احمد کا فرمان     بچوں کی کثرت اور غربت    نبی کا طریقہ اور ہم  حضور کی سیرت کاپہلو   سوکنوں کا جھگڑا  تعدد زواج میں اصل حکم      عورتوں کی آبادی    عورت کا انکار     اولیا کی طرف سے نکاح میں تاخیر کا حکم   عورت کا حسن و جمال    بدنظری کے خلاف بیان بازی    ایک اچھے مرد پر صرف ایک عورت کا قبضہ   مالداری اور نکاح   عورت کا کنوارا رہنا۔      ہر چیز ایک خاص اندازے سے ہے۔   عورتوں کی شرح پیدائش زیادہ ہونے کی وجوہات     دورِ صحابہ میں نکاح کیسے ہوتے تھے۔    متعدد شادیاں اور خواتین کا تحفظ      تعدد ازدواج کی سنت زندہ کرنے والا معاشرہ۔     تھوکا ہوا مال۔    عجیب بات۔       اعتدال۔    کیا اس زمانے میں دوسری شادی مناسب نہیں۔۔؟؟    پہلے بیوی کی ذہن سازی کریں۔   کیا دوسری شادی سے پہلی بیوی کا گھر اجڑ جاتا ہے۔۔؟؟    دوسری شادی کرنے پر خود کشی کی دھمکی    سوکن لانے والا ظالم ہے۔۔؟؟    کیا آپ انصاف نہیں کرسکتے۔۔؟؟     غیرمسلموں کی بیداری۔    کیا دوسری شادی کرنےمیں فتنہ پیدا ہوتا ہے۔  خواتین کے لئے ایک سبق۔   بعض لوگوں کا عجیب اعتراض۔  رشتوں کے سلسلے میں ایک رپورٹ۔  سب سے بابرکت نکاح۔ متعدد بیویوں کی صورت میں مشکلات ۔   بگڑے ہوئے دماغوں کی اصلاح کریں۔   دوسری شادی محض مباح کام ہے ۔۔؟؟   ایک سے زائد شادیوں میں رکاوٹ۔   اہل علم پر تعددزوجات کی عملی ترغیب لازم ہے۔   خلفائے راشدین کا عمل۔    نکاح یا سوداگری۔   ترغیب نکاح کے ساتھ وعدہ غنا۔  اجتماعی شادیوں کا عجیب واقعہ۔  
.......................................

Monday, January 14, 2019

بگڑے ہوئے دماغوں کی اصلاح کریں۔


باپ جو اولاد کے لئے منزلہ رہبر اور مربی ہوتاہے (بشرط عدل اور اپنی حیثیت واستطاعت کو ملحوظ رکھتے ہوئے) اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک سے زائد بیویاں رکھے تاکہ اس معاملے میں اس کی اولاد کے بگڑے ہوئے دماغوں کی کسی قدر اصلاح ہو سکے اور اس کی آل اولاد میں سے اگر کوئی اس حلال کام کا اقدام کرنا چاہے تو اس آل اولاد پر اس معاملے میں ذرا سی بھی تنگی نہ رہے ۔
چھوٹے بھائی کی نسبت بڑے بھائی پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ  (بشرط عدل اور اپنی حیثیت واستطاعت کو ملحوظ رکھتے ہوئے)ایک سے زائد شادیاں کرے تا کہ اس کے چھوٹے بھائیوں کے بگڑے ہوئے دماغوں  کی کسی قدر اصلاح ہو سکے اور ان پر اس معاملے میں بڑے بھائی کے عمل کو دیکھ کر ذراسی بھی تنگی نہ رہے ۔
کسی مسلمان خاندان کے مسلمان بڑوں پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ  (بشرط عدل اور اپنی حیثیت واستطاعت کو ملحوظ رکھتے ہوئے)وہ ایک سے زائد بیویاں رکھیں تاکہ ان کے چھوٹوں کے بگڑے ہوئے دماغوں کی اصلاح ہو اور جب کوئی انہیں طعنہ دے تو خاندان کے ان بڑوں کی مثال پیش کرکے وہ خود کو بھی اس اقدام کا پوری طرح مستحق ثابت کر سکیں ۔
بعض اکابر اور محقق اہل علم کی رائے کے مطابق ملک کے مفتیانِ کرام اور علما کرام پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ زبانی ترغیب کے ساتھ اس سنت کا عملی اقدام کریں تا کہ ان پر اعتماد کرنے اور ان سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے بگڑے ہوئے دماغوں کی اصلاح ہوسکے۔
(ایک سے زائد شادیوں کی ضرورت کیوں؟،مولانا طارق مسعود صاحب۔)
Enter your email address:


Delivered by FeedBurner

Saturday, January 12, 2019

نکاح میں تاخیر کرنے والا 2


Delaying the Nikah is the hallmark of a fool, an impotent or a Faasiq!

Thursday, January 10, 2019

تعدد ازواج میں اصل حکم کیا ہے؟ 6


تعدد ازواج میں اصل حکم کیا ہے؟
اسلام چونکہ دین فطرت ہے اس لئے مرد کی فطرت سے پوری طرح مطابقت کے باعث اسلام میں اصل ترغیبی حکم یہ ہے کہ ایک سے زائد بیویاں رکھی جائیں ، یعنی تعدد اصل ہے اور ایک پر اکتفا کرنا یہ مجبوری کے وقت ہے۔
فانکحوا ماطاب لکم من النسا مثنیٰ وثلٰث وربٰع، وان خفتم ان لا تعدلوا فواحدۃ ۔
نکاح کرو دودو سے تین تین سے چار چار سے،اور اگر تمہیں خوف ہو کہ عدل قائم نہ کرسکو گے تو پھر ایک کرو۔
دیکھیں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ایک کا حکم نہیں دیا بلکہ دو دو تین تین چار چار بیویاں رکھنے کا حکم دیا اور مجبوری کے وقت ایک ہی رکھنے کی اجازت بھی دی۔اس سے معلوم ہوا اصل حکم تعدد ازواج کا ہے۔
ایک سے زیادہ عورتوں کی خواہش اور طلب مرد کی فطرت میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کی فطرت ہی ایسی بنائی ہے کہ وہ صرف ایک عورت پر گزارہ نہیں کرسکتا۔ تاریخ بھی اس بات کی شاہد ہے کہ ابتدا ہی سے مردوں کا ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کا رجحان رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ جنت میں بھی ایک مومن مرد کو ایک سے زیادہ بیویاں اور کئی حوریں ملیں گی۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی ہزار خادم ہونگے اور بہتّر بیویاں ہونگی۔ ایک اور  روایت میں ہے کہ ایک جنتی مرد کی پانچ سو حوروں اور چارہزار کنواریوں اور آٹھ ہزار بیوہ عورتوں سے شادی کروائی جائے گی۔
حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
عقلاً ونقلاً وتجربۃً وقیاساً ہر لحاظ سے یہ امر مسلّم ہے کہ مرد میں عورت کی بہ نسبت شہوت کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔
عقلاً اس لئے کہ مرد کا مزاج گرم ہے ، جوسبب شہوت ہے اور عورت کا مزج سرد ہے۔
شرعاً اور نقلاً اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مرد کو چار بیویوں کا اختیار دیا ہے اگر عورت میں شہوت زیادہ ہوتی تو اس کے برعکس ہونا چاہئے تھا۔
تجربۃً اس لئے کہ کوئی شخص اس کا قائل نہیں اور اس کی مثال پیش نہیں کرسکتا کہ عورت ہمبستری کی دعوت دے اور مرد انکار کرے ، اس کے برعکس اس کی مثالیں روزانہ پیش آتی رہتی ہیں کہ مرد بلاتا ہے اور عوت راضی نہیں ہوتی۔
قیاساً اس طریقے سے کہ دوسرے حیوانات میں یہ امر مشاہد ہے کہ ایک مذکر سینکڑوں مونث کے لئے کافی ہوجاتا ہے۔
اس کے علاوہ مردوں میں کثرت احتلام اور عورتوں میں اس کا وجود کالعدم ہونا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ عورتوں میں شہوت کم ہوتی ہے۔


Islam is divinely ordained by Allah (SWT) thus fully compatible with human nature, particularly the Fitrah of man. Therefore Islam encourages polygny and to become content with one is the exception and not the rule. 

Sunday, January 6, 2019

غربت کا بہانہ 8


غربت کا بہانہ
کچھ لوگ دوسروں کو یہ کہہ کردوسری شادی سے روکتے ہیں کہ پہلی بیوی کے اخراجات پورے نہیں ہورہے اور تم دوسری کی بات کرتے ہو۔
دراصل آج کل کے زمانے میں جو شخص بحریہ ٹاون اور ڈیفنس میں مکان نہیں بنا سکتا وہ اپنے آپ کو غریب سمجھتا ہے حالانکہ غربت یہ نہیں ہے، جو آدمی دو وقت(تین وقت نہیں) خود بھی کھاتا ہے اور اپنے بیوی بچوں کو بھی کھلاتا ہے وہ غریب نہیں ہے۔
ایک سے زائد شادیاں کرنے کے لئے بہت زیادہ مالدار ہونا ضروری نہیں ہے،بس اتنا کافی ہے کہ آپ اپنی بیوی کو تین چیزیں اس کے مناسب حال دے سکیں:
۱۔ مناسب خوراک
۲۔مناسب لباس
۳۔مناسب رہائش، پھر اس رہائش میں یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ 500 گز کا بنگلا بنا کردیں بلکہ اتنا کافی ہے کہ ایک ایسا کمرہ بیوی کو دینا چاہئے جس میں اس کا پورا اختیار ہو، یعنی اس کمرے میں اس کی اجازت کے بغیر کوئی داخل نہ ہوسکے اسے بند کرنا اور کھولنا بیوی کے اختیار میں ہوجیسے کوئی مالک ہوتا ہے۔
مذکورہ شرائظ صرف دوسری بیوی کے لئے نہیں ہیں بلکہ پہلی بیوی  کے لئے بھی یہ چیزیں ضروری ہیں اگر آپ ان شرائط کو پورا نہیں کرسکتے تو پھر آپ پہلی شادی بھی نہیں کرسکتے۔
ہمارے سروں کے تاج حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کون غریب ہوگا، آپ کواپنی ازواج مطہرات کو دو وقت کھلانے کے لئے مناسب خوراک تو کیا میسر ہوتی غربت کے باعث گھر میں چالیس چالیس دن چولہا جلنے کی نوبت بھی نہ آتی تھی۔
معلوم ہوا غربت کا بہانہ بنا کر ایک یا متعدد شادیوں سے اجتناب کرناشرعاً اچھی بات نہیں،اگر آپ واقعی غریب ہیں تو لڑکی کے انتخاب میں اپنا معیار بدل دیں اور ایسی لڑکی کا انتخاب کریں جو آپ سے بھی زیادہ غریب ہو یا اس غربت کے باوجود آپ کے ساتھ رہنے پر راضی ہو۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں سے نکاح کرو ا لئے کہ یہ عورتیں تمہارے مال میں برکت واضافے کا سبب ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگو روزی کو نکاح میں تلاش کرواور پھر یہ آیت تلاوت کی:
اِن یَکونُوا فقرا یغنھم اللہ من فضلہ
اگر یہ فقیر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں(نکاح کے باعث) غنی کردے گا۔
بخاری شریف میں ایک غریب صحابی کے نکاح کا عجیب واقعہ موجود ہے وہ یہ کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں ایک عورت آئی اور کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ سے نکاح کرنا چاہتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ایک نظر کی اور سر جھکا لیاکچھ دیر اسی طرح گزر گئی تو ایک صحابی کھڑے ہوئے اور کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ کو اس عورت سے نکاح کی رغبت نہیں تو میرا نکاح کرادیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہر دینے کے لئے کچھ ہے؟ صحابی نے کہا اس تہبند کے علاوہ کچھ بھی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گھر بھیجا تاکہ کوئی چیز لائے ، وہ صحابی اپنے گھر سے ہوکر واپس آئے اور کہا کہ اس تہبند کے علاوہ کچھ بھی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دوبارہ بھیجا کہ دوبارہ تلاش کرکے آو اگرچہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو، وہ دوبارہ تلاش کرکے آئے اور کہا اس تہبند کے علاوہ کچھ بھی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں قرآن سے کچھ یاد ہے؟ اس پر صحابی نے کچھ سورتیں گنوائیں کہ فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سورتوں کو تم زبانی پڑھ سکتے ہو؟ صحابی نے عرض کیا جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم نے تمہارا نکاح اس عورت سے اس قرآن کے بدلے کردیا جو تمہیں یاد ہے(یعنی جتنی سورتیں یاد ہیں ان کی تعلیم بیوی کو بھی دے دینا فی الحال یہ سہی)۔
اس واقعہ سے معلوم ہوا غربت کا بہانہ بنا کر نکاح میں رکاوٹ نہیں ڈالی جاسکتی۔


Some people discourage others from practising polygny on the grounds of poverty. In fact, our views of poverty are skewed and we think that anyone who doesn't have a luxurious house or a bungalow is poor. However, polygny doesn't require immense wealth just that the wives are provided with:
  1. Adequate Nourishment (food)
  2. Adequate clothing
  3. Adequate Accommodation and this doesn't mean that she has to have a palatial residence, rather the minimum is to provide her with a room on which she has full control and she can secure it at her own will.

Thursday, January 3, 2019

خا وند کے آنے سے پہلے گھر کو صاف ستھرا کرنے کی نصیحت


جب خا وند کے آنے کا وقت ہوتو بیو ی کو چا ہیے کہ اپنے آپ کو صاف ستھرا رکھے ۔ہوتا یہ ہے جب باہر نکلنا ہو تو دلہن کی طرح سج د ھج کے باہر جائیں گی اور خاوند نے جب آنا ہو تو پھر ایسی میلی کچیلی رہیں گی کہ بندے کی دیکھ کر ہی طبیعت خراب ہو جائے ۔ یہ بہت بڑی غلطی ہے ۔ بلکہ جتنی بھی نیک عورتیں گزری ہیں ان سب کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ روزانہ اپنے خاوند کے آنے کے وقت پر اپنے آپ کوبنا سنوار لیتی تھیں اور یہ بنانا سنوارنا ان کے لئے عبادت کی مانند ہو جاتا ہے۔ اس کا پتہ نہیں کیوں خیال نہیں کرتیں حالانکہ کتابوں میں بھی یہ بات بہت لکھیں گئی ہے۔
ایک نیک بیوی کے بارے میں آتا ہے کہ وہ ہررات اپنے آپ کو سنوارتی سجاتی اور میاں سے پوچھتی تھی کہ آپ کو میری خدمت کی ضرورت ہے۔اگر وہ کہتے ہاں تو میاں کے ساتھ وقت گزارتی اور اگر وہ کہتے نہیں مجھے نیند آرہی ہے سونا ہے تو وہ مصلے پہ کھڑی ہوتی اور ساری رات اپنے رب کے سامنے ہاتھ باندھ کر گزاردیتی تھیں۔ تو بیوی کو چاہیے کہ اپنے خاوند کے لئے گھر میں بن سنور کر رہے۔ بننے سنورنے کایہ مطلب نہیں ہوتا کہ روزانہ دلہن کے کپڑے پہنے ۔بس کپڑے ہوں، صاف ستھرے ہوں اور انسان نے بالوں میں کنگھی کی ہوئی ہو، چہرہ دھویا ہوا ہو، صاف ستھرا ہو ، خوشبو استعمال کی ہوئی ہو۔اسی کو بننا سنورنا کہتے ہیں۔ تویہ بننا سنورنا عور ت کے گھر کے فرائض میں شامل ہے۔اس میں سستی ہر گز نہیں کرنی چاہیے۔آپ باہر جائیں توسادہ کپڑوں میں جائیں۔باہر زرق برق لباس پہننے کی زیادہ ضرورت نہیں ۔ سادہ کپڑوں میں باہر جائیں گی تو فتنوں سے بچ جائیں گی۔یاد رکھیں لباس کی سادگی عورت کے حسن کی حفاظت کا سبب بن جاتی ہے۔اس لئے دستور بنائیں کہ جب باہر جائیں تو کپڑے صاف ستھرے ہوں مگر سادہ ہوں اور گھر میں ہوں تو پھر کپڑے اپنے خاوند کے لئے جو بھی پہن سکتی ہیں مگر اپنے آپ کو بنا سنوار کے تیار رکھیں۔
ایک مرتبہ نبی علیہ السلام اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک لشکر سے واپس آرہے تھے ۔ مدینہ کے با ہر ہی آپ نے قیام فرمایا۔ حالانکہ گھر بہت قریب تھے اور گھر جا بھی سکتے تھے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں تم رک جاؤ اور اپنے گھروں میں اطلاع بھجوادو تا کہ بیویاں اپنے آپ کو خاوند ں کے لیے تیار کر لیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ عورتوں کے لیے یہ نبی علیہ ا لسلام کی تعلیم ہے۔ جب عورتوں کو پتہ ہو کہ میاں کے آنے کا وقت ہے تو اس وقت میلے منہ پرمیک ا پ کرنے کے بجاے ذرا صاف ستھری ہو کر رہیں تاکہ نبی علیہ ا لسلام کی سنت کے اوپر ان کو عمل نصیب ہو سکے۔جب خود ہی صاف ستھری نہیں رہیں گی تو کیسے توقع کرتی ہیں کہ خاوند کے دل میں ہماری روز نئی محبت ہونی چاہیے۔ جب خاوند توجہ نہیں کرتے تو پھر روتی پھرتی ہیں کہ
# جی ساری دنیا کے ہوئے میرے سوا
میں نے دنیا چھوڑ دی جن کے لیے
جب آپ نے ان کے لیے دنیا چھوڑدی تو اب اپنے آپ کو ذر ا صاف ستھرا بھی رکھئے تاکہ میاں کا طبعاً” بھی آپ کی طرف محبت کا جذبہ زیادہ ہو جائے۔

Tuesday, January 1, 2019

دوسری شادی کرنے پر خودکشی کی دھمکی


Second marriage, kill himself, blackmail, halal, haram, legitimate,illegitimate
Enter your email address:


Delivered by FeedBurner

sharethis

sher this